22 مارچ 2011 - 19:30

خبر ایجنسیوں نے اعلان کیا ہے کہ لیبییا کے ڈکٹیٹر معمر قذافي نے گذشتہ کئی روز سے فضائیہ کو عوام پر حملے کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں اور کل اس نے بن غازی کو فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ سمندر سے جنگی جہازوں کی گولہ باری کا نشانہ بنایا ہے۔ / ایک رپورٹ کے مطابق اطالوی بحریہ نے بھی بن غازی پر حملوں میں شرکت کی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق الحرہ ٹی وی چینل نے بتایا ہے کہ لیبیائی بحریہ کے دو جہازوں نے لیبیا کے دوسری بڑے شہر میں عوام اور عوام کے حامی فوجیوں کے مراکز کو گولہ باری کا نشانہ بنایا۔ العالم ٹی وی چینل نے اپنے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ اطالوی حکومت بھی قذافی کی حمایت کے لئے سرگرم ہوگئی ہے اور اطالوی بحریہ نے بھی شمال کی جانب سے لیبیا کے ساحلی شہروں پر حملوں میں حصہ لیا ہے۔آج شام کو لیبیائی فضائیہ کا ایک لڑاکا سوخوی 22  (SU22) طیارہ بن غازی پر بمباری کرتا ہوا گر کر تباہ ہوگیا ہے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق بحرین میں عوامی مظاہروں کے آغاز سے لے کر اب تک 1000 افراد شہید ہوگئے ہیں جبکہ بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق شہید ہونے والوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی ہے۔ لیبیا کے عوام نے مختلف علاقوں میں کئی کرائے کے افریقی قاتلوں کو گرفتار کیا ہے جو قذافی خاندان سے روزانه 2000 ڈالر لے کر لیبیائی عوام کے قتل عام پر مأمور ہورہے ہیں۔

 یاد رہے بنغازی اور البیضاء اور دیگر کئی شہروں پر عوام کا قبضہ ہے اور قذافی سے الگ ہونے والی افواج نی بھی عوام کی مدد کرنے کا تہیہ کرتے ہوئے مشرقی علاقوں کو بھی آزاد کرادیا ہے جبکہ طرابلس پر بھی عوام کا قبضہ ہے اور طرابلس پر کرائے کے قاتلوں اور قذافی کے بیٹوں کے زیر نگرانی ملیشیاؤں کا حملہ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ یہ شہر بھی عوام کے قابو میں ہے۔

.......

/110